تحریر: سید انجم رضا
یمن اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی محض دو ممالک کا باہمی تنازعہ نہیں، بلکہ اس کے اثرات پورے مشرقِ وسطیٰ، خلیجی خطے، عالمی تجارت اور توانائی کی فراہمی تک پھیل سکتے ہیں۔ اس معاملے کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ یمن کی تاریخ، جغرافیائی اہمیت، سیاسی صورتِ حال اور انصار اللہ کے کردار کو سامنے رکھا جائے۔ اسی طرح یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ پاکستان، جو سعودی عرب اور ایران سمیت خطے کے متعدد ممالک کے ساتھ تعلقات رکھتا ہے، اپنی سفارتی صلاحیتوں کو استعمال کرتے ہوئے جنگ روکنے اور امن قائم کرنے میں کیا کردار ادا کر سکتا ہے۔
اس مسئلے کا بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا علاقائی تنازعات کا حل فوجی طاقت اور محاصرے میں ہے یا باہمی احترام، قومی خودمختاری اور مذاکرات کے ذریعے پائیدار امن قائم کیا جا سکتا ہے؟
یمن: ایک قدیم تہذیب اور تاریخی سرزمین
یمن جزیرہ نمائے عرب کا ایک قدیم تاریخی ملک ہے۔ اس کی تاریخ، تہذیب اور ثقافت صدیوں پر محیط ہے۔ مقرر کے مطابق، یمن کو صرف موجودہ سیاسی تنازع کے تناظر میں دیکھنا اس کی تاریخی حقیقت کو نظرانداز کرنے کے مترادف ہے۔
یمن کی سرزمین قدیم تہذیبوں، تجارتی مراکز اور تاریخی آثار کے حوالے سے غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ قدیم زمانے میں یہاں سبا کی تہذیب پروان چڑھی، جس کا ذکر مذہبی اور تاریخی روایات میں بھی ملتا ہے۔ ملکہ بلقیس کا تعلق بھی اسی تہذیبی پس منظر سے جوڑا جاتا ہے۔ اسی طرح مآرب کا تاریخی علاقہ قدیم یمنی تہذیب اور اس کے تعمیراتی ورثے کی نمایاں علامت ہے۔
یمن کی ایک اور اہم پہچان قہوے کی تاریخ سے وابستہ ہے۔ موخا کی بندرگاہ کبھی قہوے کی عالمی تجارت کا معروف مرکز تھی۔ اس بندرگاہ نے یمن کو بین الاقوامی تجارتی راستوں سے جوڑنے میں اہم کردار ادا کیا۔
یہ تاریخی پس منظر بتاتا ہے کہ یمن محض ایک جنگ زدہ ملک نہیں، بلکہ ایک ایسی سرزمین ہے جس کی تہذیبی، ثقافتی اور تجارتی اہمیت بہت پرانی ہے۔ اس لیے اس کے مستقبل کا فیصلہ کرتے وقت وہاں کے عوام کی تاریخ، شناخت اور سیاسی خواہشات کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔
جغرافیائی اہمیت: یمن عالمی تجارت کے لیے کیوں اہم ہے؟
یمن کی اہمیت کا ایک بڑا سبب اس کا جغرافیائی محلِ وقوع ہے۔ یہ بحیرۂ احمر، خلیجِ عدن اور بحیرۂ عرب کے قریب واقع ہے۔ اس محلِ وقوع کی وجہ سے یمن عالمی بحری تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے اہم حیثیت رکھتا ہے۔
یمن کے ساحل کے قریب آبنائے باب المندب واقع ہے، جو بحیرۂ احمر کو خلیجِ عدن اور بحرِ ہند سے ملانے والے اہم بحری راستے کا حصہ ہے۔ دنیا کے متعدد ممالک کے تجارتی جہاز اسی راستے سے گزرتے ہیں۔ یورپ، ایشیا اور افریقہ کے درمیان سامان کی نقل و حمل میں اس کی خاص اہمیت ہے۔
دوسری جانب آبنائے ہرمز خلیجِ فارس کے دہانے پر واقع ایک اہم بحری گزرگاہ ہے، جس کے ذریعے عالمی منڈیوں تک تیل اور دیگر توانائی کے وسائل پہنچائے جاتے ہیں۔
آبنائے ہرمز اور باب المندب دونوں میں کشیدگی پیدا ہو جائے تو عالمی تجارت، تیل کی ترسیل، مال برداری کے اخراجات اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ اس کے اثرات صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے، بلکہ یورپ اور ایشیا سمیت دنیا کے مختلف خطے متاثر ہو سکتے ہیں۔
یمن کی بندرگاہیں، جزائر اور ساحلی علاقے اسے مزید تزویراتی اہمیت دیتے ہیں۔ بالخصوص میون جزیرہ باب المندب کے قریب واقع ہونے کی وجہ سے اہمیت رکھتا ہے۔ اسی لیے یمن میں سیاسی استحکام صرف اس ملک کی ضرورت نہیں، بلکہ علاقائی اور عالمی تجارت کے مفاد میں بھی ہے۔
انصار اللہ کا پس منظر اور سیاسی کردار
یمن کی موجودہ صورتِ حال کو سمجھنے کے لیے انصار اللہ کے کردار کو جاننا ضروری ہے۔ یہ تحریک عام طور پر حوثی تحریک کے نام سے بھی جانی جاتی ہے، تاہم اس کے سیاسی، مذہبی اور تاریخی پس منظر کو سمجھے بغیر اسے محض ایک باغی گروہ قرار دینا مسئلے کی مکمل وضاحت نہیں کرتا۔
یمن میں زیدی مذہبی روایت اور اس سے وابستہ قیادت کی تاریخی جڑیں بہت گہری ہیں۔ انصار اللہ اپنی سیاسی شناخت میں مذہبی قیادت، اہلِ بیت سے نسبت اور اپنے دور کے ظالم سمجھے جانے والے نظام کے خلاف مزاحمت کو اہمیت دیتی ہے۔
ہم اس تحریک کے فکری رجحان کو تین بنیادی اصولوں سے تعبیر کرتے ہیں:
اول، قیادت ایسی ہو جو تقویٰ اور دینی اقدار کی پابند ہو۔
دوم، قیادت کا تعلق رسولِ اکرم کے اہلِ بیت اور فاطمی نسبت سے ہو۔
سوم، قیادت اپنے دور کے ظلم اور استبداد کے خلاف کھڑے ہونے کی صلاحیت رکھتی ہو۔
ان اصولوں کی بنیاد پر انصار اللہ کی قیادت نے ایران کی قیادت سے نظریاتی قربت محسوس کی۔اور یہ تعلق محض جغرافیائی قربت کا نتیجہ نہیں، بلکہ فکری اور سیاسی ہم آہنگی سے پیدا ہوا۔
تاہم اس معاملے کو سمجھتے ہوئے یمن کے داخلی سیاسی اختلافات، مختلف گروہوں کے مفادات اور بیرونی طاقتوں کے کردار کو بھی سامنے رکھنا ضروری ہے۔ یمن کی سیاست ایک پیچیدہ صورتِ حال رکھتی ہے، جس میں مختلف سیاسی و مسلح گروہ اپنے اپنے مقاصد کے لیے سرگرم رہے ہیں۔
قومی خودمختاری اور بیرونی مداخلت کا سوال
کسی بھی آزاد ملک کو یہ حق حاصل ہوتا ہے کہ وہ اپنے سیاسی مستقبل، حکومتی نظام اور قومی ترجیحات کے بارے میں فیصلے خود کرے۔ بین الاقوامی تعلقات میں اس اصول کو قومی خودمختاری کہا جاتا ہے۔
1648ء کے معاہدۂ ویسٹ فیلیا کو جدید ریاستی خودمختاری کے تصور کی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل سمجھا جاتا ہے۔ اس سے وابستہ اصولوں نے اس تصور کو تقویت دی کہ ریاستوں کے باہمی تعلقات میں ان کی علاقائی سالمیت اور سیاسی اختیار کا احترام ہونا چاہیے۔
یمن کے بحران میں بھی اسی اصول کو بنیاد بنایا جانا چاہیے۔ اگر کسی ملک کے اندرونی اختلافات کو بیرونی طاقتیں اپنے مفادات کے لیے استعمال کریں، مقامی گروہوں کو اسلحہ فراہم کریں یا فوجی کارروائیوں میں شریک ہوں تو تنازع مزید پیچیدہ ہو جاتا ہے۔
اس طرح یمن کے مختلف گروہوں کے درمیان اختلافات کا حل بنیادی طور پر سیاسی مکالمے اور یمنی فریقوں کے درمیان مفاہمت سے نکلنا چاہیے۔ بیرونی ممالک کو اپنے مفادات کے لیے ان اختلافات کو بڑھانے کے بجائے ان کے حل میں مدد دینی چاہیے۔
یہاں ایک اہم اصول یہ ہے کہ قومی خودمختاری کا احترام تمام فریقوں کے لیے یکساں ہونا چاہیے۔ کسی بھی ملک کی حکومت یا سیاسی گروہ کے ساتھ اختلاف، دوسرے ملک کی سرزمین میں مداخلت کا غیر مشروط جواز نہیں بن سکتا۔
یمن کا محاصرہ اور انسانی بحران
یمن کی موجودہ کشیدگی کا ایک اہم پہلو طویل محاصرہ اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والا انسانی بحران ہے۔ ان کے مطابق، یمن کو زمینی، فضائی اور بحری پابندیوں کا سامنا رہا ہے، جس سے عام شہریوں کی زندگی شدید متاثر ہوئی۔
محاصرے اور جنگ کے نتیجے میں کسی بھی ملک میں خوراک، ادویات، ایندھن اور دیگر بنیادی ضروریات کی فراہمی متاثر ہو سکتی ہے۔ بیمار افراد کے لیے علاج معالجے کی سہولتیں محدود ہو جاتی ہیں، زخمیوں کو مناسب طبی امداد نہیں ملتی اور ضرورت مند افراد کو محفوظ مقامات تک منتقل کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
یمن جیسے ملک میں، جہاں طویل عرصے سے سیاسی عدم استحکام اور جنگی حالات موجود رہے ہیں، ایسی رکاوٹیں انسانی مشکلات میں مزید اضافہ کر سکتی ہیں۔
اس صورتِ حال میں سب سے زیادہ نقصان عام شہریوں کو پہنچتا ہے۔ بچوں کی تعلیم متاثر ہوتی ہے، خاندان معاشی مشکلات کا شکار ہوتے ہیں اور بنیادی سہولتوں کی کمی معاشرے کو طویل مدتی نقصان پہنچاتی ہے۔
یمن کی قیادت کا بنیادی مطالبہ محاصرے کا خاتمہ، قومی خودمختاری کا احترام اور اپنے داخلی معاملات خود حل کرنے کا حق ہے۔ ان کے نزدیک، اگر ان مطالبات کو مذاکرات کے ذریعے تسلیم کر لیا جائے تو کشیدگی کم کرنے اور جنگ روکنے کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔
البتہ کسی بھی فریق کے دعووں اور ذمہ داریوں کا تعین کرتے وقت انسانی حقوق، بین الاقوامی قانون اور متعلقہ واقعات کے مستند شواہد کو سامنے رکھنا ضروری ہے۔
غزہ کے معاملے میں یمن کا کردار
یمن کی موجودہ کشیدگی کو غزہ کی صورتِ حال سے الگ کرکے نہیں دیکھا جا سکتا۔ انصار اللہ نے غزہ پر اسرائیلی حملوں اور فلسطینیوں کے خلاف کارروائیوں کے ردعمل میں اسرائیل اور اس سے وابستہ مفادات کو نشانہ بنانے کی پالیسی اختیار کی۔
انصار اللہ کا مؤقف یہ ہے کہ فلسطینیوں کی حمایت محض سیاسی نعرہ نہیں، بلکہ عملی اقدام کا تقاضا کرتی ہے۔ اسی سوچ کے تحت بحیرۂ احمر میں جہازوں پر حملے، اسرائیلی مفادات کے خلاف کارروائیاں اور خطے میں امریکی فوجی موجودگی کے خلاف مزاحمت کی گئی۔
دوسری جانب، ان کارروائیوں کے باعث بحری سلامتی، عالمی تجارت اور علاقائی کشیدگی کے بارے میں سنگین خدشات بھی پیدا ہوئے ہیں۔ بحری جہازوں پر حملے اور تجارتی راستوں میں رکاوٹیں بین الاقوامی معیشت کو متاثر کر سکتی ہیں اور مختلف ممالک کو فوجی ردعمل پر آمادہ کر سکتی ہیں۔
اس لیے مسئلے کا پائیدار حل تلاش کرنے کے لیے دو پہلوؤں کو بیک وقت سمجھنا ضروری ہے: فلسطینی عوام کے حقوق اور غزہ میں انسانی المیے کا خاتمہ، اور بین الاقوامی بحری راستوں کی سلامتی اور شہریوں کا تحفظ۔
اگر خطے میں جنگی کارروائیاں مسلسل بڑھتی رہیں تو اس کے نتائج کسی ایک ملک تک محدود نہیں رہیں گے۔ اسی لیے جنگ بندی، انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی اور سیاسی مذاکرات کو ترجیح دینا ضروری ہے۔
سعودی عرب اور یمن: کشیدگی کا حل کیا ہے؟
سعودی عرب اور یمن کے درمیان تنازع کو صرف فوجی طاقت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش طویل المدتی امن کے لیے کافی نہیں ہو سکتی۔ یمن کے اندر مختلف سیاسی اور مسلح گروہوں کی موجودگی، بیرونی ممالک کی حمایت اور علاقائی مفادات نے اس تنازع کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔
ہونا تو یہ چاہیئے کہ سعودی عرب اور دیگر علاقائی ممالک کو یمن کے داخلی معاملات میں مداخلت کم کرکے سیاسی حل کی راہ اختیار کرنی چاہیے۔اگر بیرونی طاقتیں یمن کے مختلف گروہوں کو اسلحہ، مالی وسائل اور فوجی مدد فراہم کرتی رہیں تو تنازع ختم کرنا مشکل ہوگا۔
اس نقطۂ نظر میں سعودی عرب کے لیے بھی ایک اہم سوال موجود ہے: کیا طویل جنگ اس کے معاشی اور تزویراتی مفادات کو پورا کرتی ہے، یا اس سے وسائل کا ضیاع اور علاقائی عدم استحکام بڑھتا ہے؟
سعودی عرب نے اپنے معاشی مستقبل کے لیے ترقی، سرمایہ کاری، سیاحت اور عالمی تجارت کو اہمیت دی ہے۔ ایسے میں خطے میں مسلسل کشیدگی اس کی ترقیاتی ترجیحات کے لیے بھی مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔
اسی لیے دونوں ممالک کے لیے بہتر راستہ یہ ہو سکتا ہے کہ وہ فوجی تصادم کے بجائے مذاکرات، اعتماد سازی اور باہمی تحفظات کے حل کو ترجیح دیں۔ کسی بھی معاہدے میں سرحدی سلامتی، خودمختاری، تجارتی راستوں کے تحفظ اور شہری آبادی کی ضروریات کو اہمیت دی جانی چاہیے۔
پاکستان کی تاریخی پوزیشن اور سفارتی ذمہ داری
پاکستان کے لیے یمن کا بحران ایک اہم سفارتی چیلنج ہے، کیونکہ اس کے سعودی عرب کے ساتھ گہرے تاریخی اور دفاعی تعلقات ہیں، جبکہ ایران سمیت خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات اور علاقائی استحکام بھی اس کے مفادات کا حصہ ہیں۔
پاکستان کے لیے اصل امتحان یہ ہے کہ وہ اپنے دوستانہ تعلقات کو جنگ میں فریق بننے کے بجائے امن قائم کرنے کے لیے استعمال کرے۔
2014ء اور 2015ء کے واقعات کی روشنی میں پاکستان نے یمن کے معاملے میں پہلے بھی سفارتی رابطے رکھے اور 2015ء میں سعودی عرب کی جانب سے فوجی تعاون کی درخواست کے بعد پارلیمان میں اس موضوع پر بحث ہوئی۔ ان کے مطابق، پارلیمان نے اس وقت یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ پاکستان کو مسلم ممالک کے درمیان جنگ میں فریق نہیں بننا چاہیے اور اپنی غیر جانب دار پوزیشن برقرار رکھنی چاہیے۔
یہاں غیر جانب داری کا مطلب یہ نہیں کہ پاکستان خاموش تماشائی بن جائے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان اپنے فیصلے آزادانہ طور پر کرے اور کسی دوسرے ملک کے تنازع میں اپنے قومی مفادات اور امن کی ترجیحات کو نظرانداز نہ کرے۔
اور یہ ایک تزویراتی غیر جانب داری ہے۔ اس سے مراد ایسی پالیسی ہے جس میں کوئی ملک مختلف فریقوں کے ساتھ تعلقات برقرار رکھتے ہوئے اپنے فیصلوں کا اختیار اپنے پاس رکھتا ہے اور تنازعات میں غیر ضروری طور پر کسی ایک فریق کے تابع نہیں ہوتا۔
پاکستان کے لیے یہ پالیسی اس لیے بھی اہم ہے کہ وہ سعودی عرب، ایران، چین، ترکی اور دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات رکھتا ہے۔ اگر وہ کسی ایک علاقائی تنازع میں عسکری طور پر فریق بن جائے تو اس کے دوسرے سفارتی تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں اور مستقبل میں ثالثی کی صلاحیت محدود ہو سکتی ہے۔
دفاعی معاہدے اور جنگ میں شمولیت کا سوال
پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی تعلقات کے مطابق دفاعی معاہدے کی تشریح اس کی اصل شرائط اور حالات کے مطابق ہونی چاہیے۔
کسی دفاعی معاہدے کا مقصد لازماً یہ نہیں ہوتا کہ معاہدے میں شامل ایک ملک کی ہر بیرونی فوجی کارروائی میں دوسرا ملک بھی شریک ہو جائے۔ اس کا انحصار معاہدے کی عبارت، اس کی قانونی حیثیت اور اس کے اطلاق کی شرائط پر ہوتا ہے۔
اسی لیے پاکستان کو کسی بھی علاقائی کشیدگی میں اپنی ذمہ داریوں کا تعین معاہدے کی واضح شرائط، قومی مفادات اور بین الاقوامی قانون کی روشنی میں کرنا چاہیے۔
پاکستان کی دوستی کا حقیقی تقاضا یہ نہیں کہ وہ کسی دوست ملک کی ہر پالیسی کی غیر مشروط حمایت کرے، بلکہ یہ ہے کہ اسے ایسے فیصلوں سے بچنے میں مدد دے جو اس کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہوں۔
اس حوالے سے ایک سادہ مثال دی جا سکتی ہے: اگر کوئی دوست خطرناک راستے پر چل پڑے تو حقیقی دوستی اس کے پیچھے چل پڑنے کا نام نہیں، بلکہ اسے نقصان سے بچانے کی کوشش کا نام ہے۔
چنانچہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ اپنے تعلقات برقرار رکھتے ہوئے اسے مذاکرات، کشیدگی میں کمی اور علاقائی مفاہمت کی طرف لانے کی کوشش کر سکتا ہے۔
پاکستان ثالثی کیسے کر سکتا ہے؟
پاکستان کے پاس سفارت کاری کے ذریعے امن کی کوشش کرنے کے کئی امکانات موجود ہیں۔
اول: تمام متعلقہ فریقوں سے رابطہ
پاکستان کو سعودی عرب، یمن کے مختلف سیاسی فریقوں، ایران اور دیگر متعلقہ علاقائی ممالک کے ساتھ رابطے برقرار رکھنے چاہییں۔ اگر کسی فریق کو مذاکرات سے باہر رکھا جائے تو مسئلے کا پائیدار حل تلاش کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔
دوم: مذاکرات کے لیے قابلِ اعتماد ماحول پیدا کرنا
پاکستان ابتدائی رابطوں، پسِ پردہ گفتگو اور سفارتی ملاقاتوں کی سہولت فراہم کر سکتا ہے۔ اس عمل کا مقصد فوری طور پر کسی فریق کو شکست دینا نہیں، بلکہ ایسے مشترکہ نکات تلاش کرنا ہونا چاہیے جن کی بنیاد پر جنگ بندی اور سیاسی مکالمہ ممکن ہو سکے۔
سوم: جنگ بندی اور محاصرے میں نرمی
اگر متعلقہ فریقوں کے درمیان اتفاق پیدا ہو تو پاکستان انسانی امداد کی فراہمی، شہریوں کے تحفظ، تجارتی راستوں کی بحالی اور جنگی کارروائیوں میں کمی کے لیے ایک قابلِ عمل منصوبے کی حمایت کر سکتا ہے۔
چہارم: یمن کے داخلی معاملات میں یمنی عوام کی شرکت
یمن کے مستقبل کا فیصلہ ایسے سیاسی عمل کے ذریعے ہونا چاہیے جس میں وہاں کے مختلف طبقات اور سیاسی گروہوں کو نمائندگی حاصل ہو۔ کسی بھی سیاسی انتظام کی پائیداری کے لیے ضروری ہے کہ اسے عوامی قبولیت حاصل ہو اور وہ محض بیرونی طاقتوں کے مفادات کی عکاسی نہ کرے۔
پنجم: بین الاقوامی قانون اور خودمختاری کی بنیاد
پاکستان مذاکرات میں اس اصول کی حمایت کر سکتا ہے کہ تمام فریق ایک دوسرے کی علاقائی سالمیت، قومی خودمختاری اور شہری آبادی کے تحفظ کا احترام کریں۔ اس کے ساتھ بحری راستوں کی سلامتی اور انسانی امداد کی فراہمی کو بھی مذاکرات کا حصہ بنایا جائے۔
سعودی عرب اور علاقائی امن کے درمیان توازن
پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ اپنے تعلقات کی اہمیت کا مکمل ادراک ہونا چاہیے، لیکن ان تعلقات کو علاقائی امن کے وسیع تر مفاد کے ساتھ ہم آہنگ رکھنا بھی ضروری ہے۔
پاکستان کے لیے یہ ممکن ہے کہ وہ سعودی عرب کے ساتھ دفاعی، معاشی اور سفارتی تعاون برقرار رکھے، ایران کے ساتھ روابط کو بہتر بنائے اور یمن کے مسئلے کے حل کے لیے مذاکرات کی حمایت کرے۔
اس مقصد کے لیے ضروری ہے کہ پاکستان کسی ایک فریق کے سیاسی مؤقف کو مکمل طور پر اپنانے کے بجائے تنازع کے بنیادی اسباب اور تمام فریقوں کے جائز تحفظات کو سمجھنے کی کوشش کرے۔
پاکستان کو یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ اگر خطے میں کشیدگی مزید بڑھتی ہے تو اس کے اثرات توانائی کی قیمتوں، تیل کی درآمدات، ترسیلاتِ زر، تجارتی راستوں اور پاکستانی معیشت پر پڑ سکتے ہیں۔
اسی لیے پاکستان کے لیے جنگ میں براہِ راست شمولیت کے بجائے سفارتی کردار ادا کرنا زیادہ سودمند راستہ ہو سکتا ہے، بشرطیکہ یہ کردار قومی مفادات، معاہداتی ذمہ داریوں اور عملی حالات کو سامنے رکھ کر ادا کیا جائے۔
جنگ نہیں، سفارت کاری
یمن کا بحران تاریخ، مذہب، سیاست، جغرافیہ اور عالمی مفادات سے جڑا ہوا ایک پیچیدہ مسئلہ ہے۔ اسے صرف حوثی تحریک، سعودی عرب یا ایران کے تناظر میں دیکھنے سے اس کی مکمل تصویر سامنے نہیں آتی۔ اس میں یمن کے داخلی اختلافات، بیرونی طاقتوں کی مداخلت، غزہ کی صورتِ حال اور عالمی بحری تجارت کے مفادات بھی شامل ہیں۔
اہم نکتہ یہ ہے کہ یمن کی قومی خودمختاری کا احترام کیا جائے، اس کے محاصرے اور انسانی مشکلات کے خاتمے کے لیے اقدامات کیے جائیں اور تنازع کو فوجی طاقت کے بجائے مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے۔
پاکستان کے لیے بھی یہی موقع ہے کہ وہ اپنی سفارتی ساکھ، مختلف ممالک کے ساتھ تعلقات اور ثالثی کی صلاحیت کو استعمال کرے۔ اسے چاہیے کہ سعودی عرب کے ساتھ دوستی برقرار رکھتے ہوئے اسے جنگ کے بجائے امن کی طرف لانے کی کوشش کرے، ایران اور یمن سمیت متعلقہ فریقوں کے ساتھ رابطے قائم رکھے اور سیاسی حل کے لیے عملی اقدامات کی حمایت کرے۔
پائیدار امن اسی وقت ممکن ہے جب تمام فریق یہ تسلیم کریں کہ کسی ملک کی قومی خودمختاری، شہریوں کی سلامتی اور علاقائی استحکام کو مستقل طور پر فوجی طاقت کے ذریعے یقینی نہیں بنایا جا سکتا۔
پاکستان کے لیے اصل امتحان یہ نہیں کہ وہ کسی ایک فریق کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ اپنے تعلقات اور سفارتی صلاحیت کو استعمال کرکے فریقوں کو جنگ سے نکالنے، مذاکرات کی میز پر لانے اور خطے میں پائیدار امن قائم کرنے میں کس حد تک کامیاب ہوتا ہے۔










آپ کا تبصرہ